ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تعلیم اورصحت ریاستی حکومت کے ایجنڈے میں نہیں ہیں

تعلیم اورصحت ریاستی حکومت کے ایجنڈے میں نہیں ہیں

Mon, 26 Dec 2016 12:45:14    S.O. News Service

کشواہا نے نتیش کمارپر مرکزی اسکول کیلئے زمین الاٹمنٹ میں دلچسپی نہ لینے کاالزام لگایا
پٹنہ، 25؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل اوپیندر کشواہانے وزیر اعلیٰ نتیش کمارپربہار میں مرکزی اسکول کھولنے میں دلچسپی نہ لینے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ کئی بار ا س بارے میں لکھے جانے کے باوجود ریاستی حکومت نے اس کے لیے زمین مختص نہیں کیاہے۔پٹنہ میں آج صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کشواہا نے الزام لگایا کہ بہارمیں تعلیم اورصحت کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ایجنڈے میں نہیں ہے۔بہار حکومت پردیش میں مرکزی اسکول کھولنے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔مرکزی اسکول کھولے جانے کیلئے کئی بار زمین دستیاب کرائے جانے کے مطالبہ پر ریاستی حکومت نے اس پرکوئی توجہ نہیں دی۔انہوں نے بہار میں خراب معیار کے تعلیمی نظام جاری رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند نے کئی بار اساتذہ کی خالی جگہوں کوبھرنے کیلئے ریاستی حکومت سے کہاہے۔ہم بہار سمیت دیگر ریاستوں کو اقتصادی اور تعلیمی تعاون دے رہے ہیں ۔ بد قسمتی سے بہار کے وزیراعلیٰ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔قومی لوک سمتا پارٹی کے قومی صدر کشواہا نے اگر تحریک کی ضرورت پڑی توان کی پارٹی اپنی پارٹی بہار میں مرکزی اسکول کھولے جانے کے لئے زمین فراہم کرنے کے واسطے تحریک چھیڑے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی اسکول سے منسلک ان تمام تجاویزکومرکز کی طرف سے منظوری دے دی جائے گی جن کیلئے زمین دستیاب کرائی جائے گی۔انہوں نے ریاست میں جاری دیگر مرکزی اسکولوں کیلئے بھی زمین دستیاب کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں تقریباََدودرجن ایسے مرکزی اسکول ہیں جن کے پاس اپنا گھر نہیں ہے اور اس وقت وہ عارضی مکانوں میں کام ہیں۔کشواہانے کہا کہ ایک مرکزی اسکول کیلئے دیہی اور شہری علاقوں میں آٹھ سے دس ایکڑپلاٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔انہوں نے بہار میں قانون کے علاوہ حالات بگڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار کو گڈ گورننس کی بات نہیں کرنی چاہئے۔میڈیا میں آئی اس خبر جس بہار کے محکمہ تعلیم کی طرف سے 60فیصد سے کم پوائنٹس آنے پر ادارے کے سربراہ کے خلاف کارروائی کی بات کہی گئی ہے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کشواہا نے کہا کہ کس طرح سرکاری محکمہ اس طرح کے نوٹیفکیشن جاری کر سکتا ہے۔


Share: